اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں پلاسٹک کی بوتلوں کو ادویات کے کنٹینرز کے طور پر استعمال کرنے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ڈریپ کے سی ای او سے پوچھا کہ کیا دوائیں پلاسٹک کی بوتلوں میں رکھی جا سکتی ہیں؟ چیف ڈریپ کے مطابق پلاسٹک کا استعمال ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا معیار کو برقرار رکھنے کے لیے بھی طریقہ کار بنایا گیا؟ سی ای او ڈریپ نے جواب دیا کہ پلاسٹک کے ناقص استعمال سے متعلق مسائل کی چھان بین کی گئی۔
سی ای او ڈریپ کے جواب کے بعد عدالت نے از خود نوٹس کو خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *
You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>