بطور پاکستانی ہم مغربی طور طریقوں سے اختلاف کرتے ہیں ان کے پہننے اوڑھنے کے انداز ان کا رہن سہن کا طریقہ سب پر ہی تو اعتراض ہوتا ہے ہمیں
پھر آخر کیوں ہم خود وہاں جاکر بس نہ چاہتے ہیں؟ ہم کیوں اپنے بچوں کو وہاں پڑھانا چاہتے ہیں؟ کیونکہ ہم وہاں دودھ گائے کا ملتا ہے اور یہاں کیمیکل کا وہاں پرچی سسٹم نہیں چلتا اور یہاں پرچی کے علاوہ کام نہیں ہوتا غدار معاشرے میں رہتے ہیں ہم خود منافق ہیں

وہاں بچے سکول جاتے ہیں تو محفوظ ہوتے ہیں یہاں ڈر ہی لگا رہتا ہے کہ شاید کوئی ہمارا بچہ نہ اٹھا کر لے جائےوہاں حرام جانور کا گوشت بھی ایک نمبر ملتا ہے اور یہاں حلال جانور کا گوشت بھی حرام کر کے بیچا جاتا ہے وہ جو ہے جیسے ہی سامنے ہیں اور ہم بظاہر تو شرافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لیکن اندر سے بہت منافق ہے

ہم اپنے آپ کو آخر کب درست کریں گے ؟دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے کب باز آئیں گے؟

بظاہر تو کوئی بھی تفریح نہیں ہے پاکستان میں زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ جا کر کھانا کھا لیں لیکن پھر بھی کچھ دنوں بعد خبر چلتی ہے کہ فلاں ریسٹورنٹ پر گدھے کا گوشت پکا کر کھلایاجاتا تھا. یا پھر ایکسپائر چیزیں کھلائی جاتی تھی

بچوں کے کھانے کی چیزیں تک ناقص مواد سے بنائی جاتی ہیں جن کو کھا کر نہ جانے کتنے بچے ہر سال دنیا سے چلے جاتے ہیں. کتنے بھائی شوہر باپ اپنی بہنوں بیٹیوں اور بیویوں کا جائیداد میں حصہ کھا جاتے ہیں

افسوس کہ ہم ایک مردہ قوم ہیں
مغرب میں تو ایک کم لباس کے ساتھ بھی ایک عورت بیٹی بہن محفوظ ہوتی ہے. وہاں آپ کی مرضی کے بنا آپ کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا وہاں کوئی بھائی یا شوہر اپنی بہن بیوی کا حق نہیں کھا سکتا.

پھر صرف مغرب کو بری چیزوں کو دیکھ کر ہی فیصلہ قائم کرنا اور اختلاف کرنا کیا صحیح ہے؟؟؟ آج جو ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ چیز پائی جاتی ہے وہ ہے بے حیائی. ہم کیوں صرف مغرب کی بری چیزوں کو ہی دیکھتے ہیں اور اپناتے ہیں. اب ہمیں مغربی معاشرہ وہ سب کچھ بھی سکھاتا ہے جو ہمیں اسلام سکھاتا تھا اور بتاتا تھا .ہمیں سب سے پہلے اپنا قبلہ درست کرنا پڑے گا…..

یہ ایک بڑی مشہور بات ہے بہت سے دانشور بیٹھ کر یہ بولتے ہیں پیسے سے چیزیں خریدی جا سکتی ہیں زندگی نہیں لیکن پھر بھی زندگی کیوں اتنی تنگ ہے۔ غریب آدمی کیوں خوش نہیں ہے ؟ کیوں پریشان رہتا ہے؟ کیوں سب پیسہ کمانا چاہتے ہیں ؟

کیا ہوا میری بات بری لگی صاحب کب تک اندر کی منافقت ظاہر کریں گے مان لیجئے غریب رشتہ دار اور امیر رشتہ دار میں بھی فرق ہوتا ہے تو یعنی آج کے معاشرے میں تہ ہو گیا کہ پیسہ زیادہ ضروری ہے کیونکہ پیسہ ہوگا تو رشتے دار بھی ساتھ  ہوں گے۔

اس کی مثال ہم ایسے لیتے ہیں کہ
ہم ایک ناکارہ خراب آوارہ امیر لڑکے کو بیٹی کا رشتہ آرام سے دے دیں گے اور کہیں گے اللہ ہدایت دینے والا ہے سب بہتر کرے گا لیکن جب رشتہ کسی شریف نیک اور حیثیت میں کم لڑکے کا آتا ہے تو ہمارا دین ایمان بدل جاتا ہے اور عقل استعمال کرنے لگتے ہیں کہ یہ تو غریب ہے اتنا کم کماتا ہے کیسے ہماری بیٹی کو خوش رکھے گا؟ وہاں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو اللہ گناہگار کو ہدایت دے سکتا ہے وہی رب ہے جو غریب کو امیر بھی کر سکتا ہے لیکن یہاں پر ہمارے نظریات بدل جاتے ہیں اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹیوں کی زندگی برباد کرتے ہیں۔
یہ تو تہ ہے کہ غریب کے پاس پیسہ نہیں ہے اور امیروں کے پاس خلوص نہیں آج کے دور میں بس وہی اچھا ہے جو امیر ہے اسی لیے شاید اب سب پیسہ کمانے میں لگ گئے ہیں چاہے وہ جس ذریعے سے ہو لیکن ہمیں دعا ہی کرنی ہے وہ امیری نہ دے جو رب سے دور کر دے آمین

Authoritatively administrate long-term high-impact e-business via parallel web services. Synergistically synergize equity invested infrastructures whereas integrated infrastructures. Globally whiteboard customer directed resources after multimedia based metrics. Assertively strategize standardized strategic theme areas vis-a-vis impactful catalysts for change. Details

Authoritatively administrate long-term high-impact e-business via parallel web services. Synergistically synergize equity invested infrastructures whereas integrated infrastructures. Globally whiteboard customer directed resources after multimedia based metrics. Assertively strategize standardized strategic theme areas vis-a-vis impactful catalysts for change. Details

Authoritatively administrate long-term high-impact e-business via parallel web services. Synergistically synergize equity invested infrastructures whereas integrated infrastructures. Globally whiteboard customer directed resources after multimedia based metrics. Assertively strategize standardized strategic theme areas vis-a-vis impactful catalysts for change. Details

Authoritatively administrate long-term high-impact e-business via parallel web services. Synergistically synergize equity invested infrastructures whereas integrated infrastructures. Globally whiteboard customer directed resources after multimedia based metrics. Assertively strategize standardized strategic theme areas vis-a-vis impactful catalysts for change. Details

Authoritatively administrate long-term high-impact e-business via parallel web services. Synergistically synergize equity invested infrastructures whereas integrated infrastructures. Globally whiteboard customer directed resources after multimedia based metrics. Assertively strategize standardized strategic theme areas vis-a-vis impactful catalysts for change. Details

Authoritatively administrate long-term high-impact e-business via parallel web services. Synergistically synergize equity invested infrastructures whereas integrated infrastructures. Globally whiteboard customer directed resources after multimedia based metrics. Assertively strategize standardized strategic theme areas vis-a-vis impactful catalysts for change. Details

Authoritatively administrate long-term high-impact e-business via parallel web services. Synergistically synergize equity invested infrastructures whereas integrated infrastructures. Globally whiteboard customer directed resources after multimedia based metrics. Assertively strategize standardized strategic theme areas vis-a-vis impactful catalysts for change. Details

Authoritatively administrate long-term high-impact e-business via parallel web services. Synergistically synergize equity invested infrastructures whereas integrated infrastructures. Globally whiteboard customer directed resources after multimedia based metrics. Assertively strategize standardized strategic theme areas vis-a-vis impactful catalysts for change. Details