یہ ایک بڑی مشہور بات ہے بہت سے دانشور بیٹھ کر یہ بولتے ہیں پیسے سے چیزیں خریدی جا سکتی ہیں زندگی نہیں لیکن پھر بھی زندگی کیوں اتنی تنگ ہے۔ غریب آدمی کیوں خوش نہیں ہے ؟ کیوں پریشان رہتا ہے؟ کیوں سب پیسہ کمانا چاہتے ہیں ؟

کیا ہوا میری بات بری لگی صاحب کب تک اندر کی منافقت ظاہر کریں گے مان لیجئے غریب رشتہ دار اور امیر رشتہ دار میں بھی فرق ہوتا ہے تو یعنی آج کے معاشرے میں تہ ہو گیا کہ پیسہ زیادہ ضروری ہے کیونکہ پیسہ ہوگا تو رشتے دار بھی ساتھ  ہوں گے۔

اس کی مثال ہم ایسے لیتے ہیں کہ
ہم ایک ناکارہ خراب آوارہ امیر لڑکے کو بیٹی کا رشتہ آرام سے دے دیں گے اور کہیں گے اللہ ہدایت دینے والا ہے سب بہتر کرے گا لیکن جب رشتہ کسی شریف نیک اور حیثیت میں کم لڑکے کا آتا ہے تو ہمارا دین ایمان بدل جاتا ہے اور عقل استعمال کرنے لگتے ہیں کہ یہ تو غریب ہے اتنا کم کماتا ہے کیسے ہماری بیٹی کو خوش رکھے گا؟ وہاں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو اللہ گناہگار کو ہدایت دے سکتا ہے وہی رب ہے جو غریب کو امیر بھی کر سکتا ہے لیکن یہاں پر ہمارے نظریات بدل جاتے ہیں اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹیوں کی زندگی برباد کرتے ہیں۔
یہ تو تہ ہے کہ غریب کے پاس پیسہ نہیں ہے اور امیروں کے پاس خلوص نہیں آج کے دور میں بس وہی اچھا ہے جو امیر ہے اسی لیے شاید اب سب پیسہ کمانے میں لگ گئے ہیں چاہے وہ جس ذریعے سے ہو لیکن ہمیں دعا ہی کرنی ہے وہ امیری نہ دے جو رب سے دور کر دے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *
You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>