اکھیاں کرن سوال نی مائے
کدی تاں پوچھ لے حال نی مائے
تیرے باجوں تیری قسمیں
دن بن گۓ نے سال نی مائیں
تیریاں یاداں  میرے ویڑے
پاون روز دھمال نی مائے
میرے  نال زمانہ چلدا
نت نوی چال نی مائے
سارے رشتے مطلب دے نے
کہنوں دساں حال نی مائے

کل سے یہ سوچ سوچ کر میرا دل پھٹا جا رہا ہے کہ کیسے انسان نما درندے نے اپنی ماں پر ہاتھ اٹھایا پتا نہیں ہم لوگ پھر کسے قیامت کہتے ہیں آسمان بھی لرذ جاتا ہے ایسا ظلم دیکھ کر۔ ایک ماں جو نو ماہ پیٹ میں رکھنے کے بعد کتنی مشکل اٹھانے کے بعد اس دنیا میں لے کر آتی ہے ساری زندگی روٹیاں پکا کر کھیلاتی  ہے، ساری عمر فکر میں لگی رہتی ہے، گھر لیٹ آئے بیٹا تو فکر، کھانا نہ کھائے تو فکر، دوسرے بچوں سے پیچھے رہ جائے تو فکر، جب بیٹا بڑا بھی ہو جائے ماں بیٹے کے بیمار ہونے پر ایسے تڑپتی ہے جیسے دو سال کا بچہ ہو

پھر کیسے  اس ظالم کو ایک لمحے کیلئے خیال نہ آیا کہ ایسا تشدد تو کسی طور پر کرتے ہیں یا دشمن پر ماں پر تو اولاد جتنی بھی بڑی ہو جائے سوچ بھی نہیں سکتی ہاتھ اٹھانے کی یقین کریں میری عمر 28 سال ہے اور میری ماں مجھے آج بھی غصے میں برا بھلا بولتی ہیں لیکن سوائے مسکرانے اور اللہ کا اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہا اس  غلیظ انسان نے جب ماں پر ہاتھ اٹھایا تو میرا دل چیخ اٹھا دل چاہا کہ کاش وہ ہوتی تو اسی وقت اس کے ہاتھ اور زبان سے وہ ماں کو گالیاں دے رہا تھا کاٹ دو وہ ماں جس نے بولا سیکھایا تم اس پر زبان کی تیزی سے مال کرے وہ ماں تو کچھ بھی نہیں مانگتی اس  کے لیے تو بس سارا جہاں اولاد ہوتی ہے بیٹا دن  میں ماں سے یہی پوچھ لے کہ کھانا کھایا  ہے توماں کے لیے یہی کافی ہوتا ہے

حیران ہوئی جب اس ماں نے کہا یہ میرا بیٹا ہے میں نہیں چاہتی اس کے ساتھ برا ہو دل تڑپتا دیکھا اس ماں کا لیکن ظلم اب حد سے بڑھ چکا ہے درندے نے ماں کو بچانے والی بہن کوبھی بے دردی سے مارا اس شخص نے دنیا اور آخرت میں جہنم کا سودا خود کیا ہے اللہ سب کو ہدایت دے اور کسی کوبھی تکلیف پہنچانے والے انسانوں میں شامل ہونے کی توفیق نہ عطا فرمائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *
You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>